نئی دہلی، 13/نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) ”کسی بھی ملک کی حکومت عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کو بھلائی پہنچانے کی پابند ہوتی ہے۔ لیکن مودی حکومت کا اس سے کوئی سروکارنہیں ہے۔ شروع دن سے ہی مودی حکومت عوام مخالف ثابت ہوئی ہے۔ جمہوری ملک میں راجاؤں جیسافیصلہ سنانااس ملک کے لیے بہت ہی افسوسناک ہے“۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدرمولاناعثمان بیگ رشادی نے کیا۔کونسل کے قومی صدر نے کہا کہ: ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی حکومت صرف چند لوگوں کی رکھیل بنی ہوئی ہے اور انھیں کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ مودی کو ”ون مین شو“ کی حیثیت سے پیش کیاجارہاہے۔کیایہ ملک مودی کے باپ کی جاگیر ہے اور یہاں کی ۵۲/ کروڑ عوام اس کے غلام؟؟؟“۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا رشادی نے امت شاہ کے بیان ”: بڑے نوٹوں پر پابندی سے بہت سی پارٹیاں کنگال ہو جائیں گی“پر کہا کہ: ”دراصل بڑے نوٹوں پر پابندی کے ذریعے آنے والے انتخابات میں صرف بی جے پی ہی نوٹوں کی سیاست کرے گی؛ اسی لیے سب کو کنگال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ورنہ تو ایسا ڈکٹیٹرانہ فیصلہ اچانک نہیں دیا سکتا ہے“۔آل انڈیاامامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ: ”مودی حکومت منظم طریقے پر نجیب کی گمشدگی، بھوپال انکاؤنٹر اور یکساں سوڈ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے نوٹوں کا کھیل کھیل رہی ہے۔ نوٹ کو بند کر کے مودی نے ایک غلط طریقہ جاری کر دیا ہے۔ اب ہر پارٹی جس کی مرکزی حکومت ہوگی وہ دوسری پارٹیوں کو شکست دینے کے لیے یہ ہتھکنڈہ استعمال کرے گی۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں اس طرح کا فیصلہ ممکن ہے؟“۔کونسل کے قومی ترجمان حنیف احرارؔ سوپولوی نے بتایا کہ: ”مودی سرکار کو یکساں سول کوڈکاخیال بھی ذہن سے نکال دینا چاہیے؛ کیوں کہ یہ کسی بھی ہندستانی کے حق میں نہیں ہے۔؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ: ”مرکزی حکومت عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی و عروج کے ایجنڈے پر کام کرے اور آر ایس ایس اور بھگوا ذہنیت کو فروغ دینے والے تمام حربوں کو فوری طور پر ترک کرے اور اہل ثروت عناصر کے مفاد کے لیے ان کے اشاروں پرکام کر نابندکرے۔ یہی ملک اور ملک کے سوا سو کروڑ عوام کے لیے بہترہوگا“۔